صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا- باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کے سبب آیت «لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا...» نازل ہوئی
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : " أَنَّ رِجَالا مِنَ الْمُنَافِقِينَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ وَتَخَلَّفُوا عَنْهُ ، وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلافَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا ، فَنَزَلَ : لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا سورة آل عمران آية 188 " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کچھ لوگ منافقین تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں شرکت کے لیے تشریف لے جاتے تو یہ لوگ پیچھے رہ جاتے اور پیچھے رہنے پر خوش ہوتے تھے اور پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آتے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عذر پیش کرتے اور اس بات کی قسم اٹھاتے اور اس بات کو پسند کرتے کہ انہوں نے جو کام نہیں کیا اس پر ان کی تعریف کی جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” تم ان لوگوں کے بارے میں ہرگز گمان نہ کرو جو اس چیز پر خوش ہوتے ہیں جو انہوں نے کیا ہے۔ “