صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر الإباحة للإمام أن يحث أنصاره لا سيما من كان أقرب منهم إليه- باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے حامیوں خصوصاً قریبی لوگوں کو خروج کی ترغیب دے
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ لَمَّا أَرْهَقُوهُ وَهُوَ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ : " مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا فَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَامَ آخَرُ ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لا تُعْبَدُ فِي الأَرْضِ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد کے موقع پر جب ان لوگوں نے پسپائی اختیار کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سات انصاریوں اور ایک قریشی کے ہمراہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کون ہم سے دور کرے گا۔ ایسا شخص جنت میں میرا ساتھی ہو گا تو ایک انصاری شخص کھڑا ہوا۔ اس نے لڑائی کی، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات کہی تو پھر دوسرا شخص کھڑا ہوا اس نے لڑائی کی یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہی بات کہتے رہے یہاں تک کہ وہ ساتوں آدمی شہید ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا اے اللہ اگر تو یہ چاہتا ہے کہ زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے (اس کے بعد روایت کے الفاظ شاید مکمل نقل نہیں ہوئے)