صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب التقليد والجرس للدواب - ذكر الزجر عن اتخاذ قلائد الأوتار في أعناق ذوات الأربع- باب: دواب کے لیے تقلید و گھنٹی کا بیان - چار سواریوں کی گردن میں تار کی قلائد باندھنے سے منع
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : فَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ : " لا تَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلادَةٌ مِنْ وَتَرٍ إِِلا قُطِعَتْ " . قَالَ مَالِكٌ : أَرَى ذَلِكَ مِنَ الْعَيْنِ .سیدنا ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ ایک سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیغام رساں کو بھیجا۔ عبداللہ بن ابوبکر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات بھی بیان کی تھی لوگ اس وقت آرام کر رہے تھے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیغام بھجوایا تھا) ” کسی بھی اونٹ کی گردن میں تانت کا تار لٹکا ہوا باقی نہ رہے۔ اسے کاٹ دیا جائے۔ “ امام مالک بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے لوگ نظر لگنے سے بچنے کے لیے اسے باندھا کرتے تھے۔