صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الرمي - ذكر إباحة المناضلة في الأسواق إذا كان فيها مرمى- باب: رمی کا بیان - اگر بازار میں مَرمَی (نشانہ) موجود ہو تو وہاں مناضَلَہ جائز ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُونَ بِالسُّوقِ ، فَقَالَ : " ارْمُوا بَنِي إِِسْمَاعِيلَ ، فَإِِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا . وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلانٍ " ، لأَحَدِ الْفَرِقَيْنِ ، فَأَمْسَكُوا بِأَيْدِيهِمْ ، فَقَالَ : " مَا لَكُمُ ارْمُوا " . قَالُوا : وَكَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلانٍ ؟ قَالَ : " ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلُّكُمْ " .سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے پاس تشریف لائے جو بازار میں تیراندازی کا مقابلہ کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اسماعیل کی اولاد تم تیراندازی کرو کیونکہ تمہارے جدامجد بھی تیرانداز تھے اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک فریق کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی تو دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ روک لیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا ہوا ہے؟ تم لوگ تیراندازی کرو ان لوگوں نے عرض کی: ہم کیسے تیراندازی کر سکتے ہیں جبکہ آپ بنو فلاں کے ساتھ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ تیراندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔