صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب حسن الخلق - ذكر الأمر بالملاينة للناس في القول مع بسط الوجه لهم باب: حسنِ اخلاق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ لوگوں سے نرمی اور خوش اخلاقی سے بات کرنے اور ان سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 468
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا ، فَإنْ لَمْ تَجِدْ ، فَلايِنِ النَّاسَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِمْ مُنْبَسِطٌ " .سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو اگر تمہیں کچھ نہیں ملتا، تو لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ اور کشادہ روئی کے ساتھ ان سے ملو ۔“