صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب فضل الشهادة - ذكر تكوين الله جل وعلا نسمة الشهيد طائرا يعلق في الجنة إلى أن يبعثه الله جل وعلا- باب: شہادت کی فضیلت - اس بیان کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ شہید کی روح کو جنت میں ایک پرندے کی شکل میں بنا دیتا ہے جو وہاں اڑتی پھرتی ہے یہاں تک کہ اللہ اسے دوبارہ اٹھائے
حدیث نمبر: 4657
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرُدَّهَا اللَّهُ إِِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” مومن کی روح جنت کے درخت پر لگی رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا۔ “