صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب فضل الشهادة - ذكر إيجاب الجنة لمن قتل في سبيل الله- باب: شہادت کی فضیلت - اس بیان کا ذکر کہ جو اللہ کی راہ میں قتل ہو گیا، اس کے لیے جنت واجب ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ : أَرَأَيْتَ إِِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقُتِلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ أَنَا ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَلْقَى تُمَيْرَاتٍ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الَّذِي قُتِلَ : هُوَ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِيُّ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غزوہ احد کے دن عرض کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے اگر میں اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہو جاؤں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تو میرا ٹھکانہ کہاں ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس شخص نے اپنے ہاتھ میں موجود کچھ کھجوریں ایک طرف رکھیں پھر وہ آدمی آگے بڑھا اس نے جہاد میں حصہ لیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) شہید ہونے والے یہ شخص سیدنا حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔