صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب فضل الجهاد - ذكر خبر ثان يصرح بمعنى ما ذكرناه- باب: جہاد کے فضائل کا بیان - اس مفہوم کی تصریح میں دوسرا بیان
أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ " مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رِبًا ، وَبِالإِِسْلامِ دَينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَقَالَ : أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَفَعَلَ . ثُمَّ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " ، قَالَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوسعید! جو شخص اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہو (یعنی ان پر ایمان رکھتا ہو) تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کو یہ بات بہت پسند آئی انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ بات میرے سامنے دوہرا دیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک دوسری چیز بھی ہے، جس کے ذریعے بندے کے ایک سو درجے بلند کر دیئے جاتے ہیں، جن میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ دوسری چیز کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔