صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب طاعة الأئمة - ذكر الزجر عن الخروج على أمراء السوء وإن جاروا بعد أن يكره بالخلد ما يأتون- باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - برے حکمرانوں پر خروج سے روکنے کا بیان اگرچہ ان کے اعمال ناپسندیدہ ہوں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خِيَارُكُمْ وَخِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ ، وَشِرَارُكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ " . قِيلَ : أَفَلا نُنَابِذُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لا ، مَا أَقَامُوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، أَلا وَمَنْ لَهُ وَالٍ فَيَرَاهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، وَلا يَنْزِعْ يَدًا مِنْ طَاعَتِهِ " .سیدنا عوف بن مالک اشجی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم میں سے بہترین لوگ اور تمہارے بہترین حکمران وہ لوگ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں وہ تمہارے لیے دعا رحمت کریں اور تم ان کے لیے دعاء رحمت کرو جبکہ تمہارے برے ترین افراد اور تمہارے برے حکمران وہ لوگ ہیں، جنہیں تم ناپسند کرو اور وہ تمہیں ناپسند کریں تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم ان سے الگ نہ ہو جائیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں اس وقت تک (الگ نہ ہونا) جب تک وہ پانچ نمازیں ادا کریں۔ خبردار جس شخص کا کوئی نگران ہو اور وہ اس نگران کو دیکھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہو رہا ہے تو وہ شخص اس نافرمانی کے ارتکاب کو ناپسند کرے لیکن اس کی فرمانبرداری سے ہاتھ نہ کھینچے۔ “