صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب طاعة الأئمة - ذكر الإباحة للمرء أن يوقر إمامه ويعظمه جهده وإن كان في قوله لمن قصد ضده ما لا يوجب الحكم ذلك- باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - امام کی تعظیم و توقیر کرنے کی اجازت کا بیان اگرچہ مخالف کے قول میں حکم واجب نہ بھی ہو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ " أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ ، وَهُوَ مُلَثَّمٌ ، وَعِنْدَهُ عُرْوَةُ ، قَالَ : فَجَعَلَ عُرْوَةُ يَتَنَاوَلُ لِحْيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحَدِّثُهُ ، قَالَ : فَقَالَ الْمُغِيرَةُ لِعُرْوَةَ : لَتَكُفَّنَّ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ ، أَوْ لا تَرْجِعُ إِِلَيْكَ . قَالَ : فَقَالَ عُرْوَةُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ابْنُ أَخِيكَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ . فَقَالَ عُرْوَةُ : يَا غُدَرُ ، مَا غَسَلْتَ رَأْسَكَ مِنْ غَدْرَتِكَ بَعْدُ " .سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ تلوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے انہوں نے منہ پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (قریش کا سردار) عروہ موجود تھا عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عروہ سے کہا: یا تو تم اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے پیچھے کر لو یا پھر یہ تمہارے پاس صحیح سلامت واپس نہیں جائے گا۔ عروہ نے دریافت کیا: یہ کون شخص ہے تو انہوں نے کہا: یہ تمہارا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے تو عروہ نے کہا: اے وعدہ خلاف! تم نے اپنی وعدہ خلافی کے بعد اپنا سر نہیں دھویا۔