صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب طاعة الأئمة - ذكر الإباحة للمرء أن يفدي إمامه بنفسه- باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - امام کے لیے اپنی جان قربان کرنے کی اجازت کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ " كَانَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ لَيَنْظُرَ أَيْنَ يَقَعُ نَبْلُهُ ، فَيَتَطَاوَلُ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَتَّقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : هَكَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو کر تیر پھینک رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے سے سر اٹھا کر یہ دیکھنا چاہا کہ ان کا تیر کہاں گرتا ہے تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سینے کو پھیلا لیا تاکہ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچائیں انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح رہیں (یعنی میرے پیچھے رہیں) اللہ تعالیٰ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا کرے آپ کی بجائے میں ان کے سامنے رہتا ہوں۔