صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب طاعة الأئمة - ذكر البيان بأن على المرء طاعة القرشيين من الأئمة إذا عدلوا في الرعية وأقاموا الحق- باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - وضاحت کہ قرشی ائمہ کی اطاعت رعایا پر لازم ہے جب وہ عدل کریں اور حق قائم رکھیں
حدیث نمبر: 4581
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ لِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا ، وَإِِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا مَا حَكَمُوا وَعَدَلُوا وَائْتُمِنُوا ، فَأَدُّوا وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شک میرا قریش پر حق ہے اور قریش کا تم لوگوں پر حق ہے جب وہ فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام لیں اور انہیں امانت سپرد کی جائے، تو اسے ادا کریں اور جب ان سے رحم مانگا جائے تو وہ رحم کریں، جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی۔ “