صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب طاعة الأئمة - ذكر إثبات معونة الله جل وعلا الجماعة وإعانة الشيطان من فارقها- باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ کی مدد جماعت کے ساتھ ہوتی ہے اور جو اس سے الگ ہو شیطان اس کا مددگار بنتا ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " سَيَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ ، فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ فَارَقَ الْجَمَاعَةِ ، أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْرُهُمْ جَمِيعٌ ، فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ ، فَإِِنَّ يَدَ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ ، وَإِِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ يَرْتَكِضُ " .سیدنا عرفجہ بن شریح اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” عنقریب میرے بعد مختلف طرح کے فتنے ہوں گے تو جس شخص کو تم دیکھو کہ (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو گیا ہے یا وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا چاہتا ہے، جب کہ وہ لوگ اکٹھے ہوں تو تم اسے قتل کر دو خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو بے شک اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور بے شک شیطان اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جو (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے۔ “