صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب طاعة الأئمة - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من لزوم النصيحة في دين الله لنفسه وللمسلمين عامة- باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - اس بات کی وضاحت کہ ہر مسلمان پر اپنے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے دین میں خیر خواہی لازم ہے
حدیث نمبر: 4574
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ مِنْ بَنِي لَيْثٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الدِّينُ النَّصِيحَةُ " ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ ، وَلِكِتَابِهِ ، وَلِرَسُولِهِ ، وَلأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ أَوْ لِلْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ " .سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” دین خیر خواہی کا نام ہے۔ “ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی لوگوں نے دریافت کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کس کی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی اس کی کتاب کی اس کے رسول کی مسلمانوں کے حکمرانوں کی (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) مومنوں کے حکمرانوں کی اور ان کے عام افراد کی (خیر خواہی کرنا) “