صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب طاعة الأئمة - ذكر وصف الأئمة المضلين التي كان يتخوفها على أمته صلى الله عليه وسلم- باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - ان گمراہ کن ائمہ کی صفات کا بیان جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے ڈرتے تھے
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ الْمُقْرِيُ أَبُو الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الأَصْفَهَانِيُّ رُسْتَهْ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ اللَّهَ لا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا " . فَلَقِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بِسَنَةٍ فَحَدَّثَنِيهُ .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو یوں نہیں اٹھائے گا اسے الگ کر لے، بلکہ علماء کو اٹھانے کے ذریعے علم کو اٹھا لے گا یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں رہنے دے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے ان لوگوں سے سوال کیے جائیں گے تو وہ علم نہ ہونے کے باوجود فتوی دیں گے وہ لوگ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ “ (راوی بیان کرتے ہیں) اس کے ایک سال بعد سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے پھر مجھے یہ حدیث بیان کی۔