صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب طاعة الأئمة - ذكر التخصيص الثاني الذي يخص عموم تلك اللفظة التي ذكرناها- باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - اسی عام لفظ کی دوسری تخصیص کا بیان
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَطَبَنَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ ، وَتَطَاوَلَ فِي غَرْزِ الرَّحْلِ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، فَقَالَ رَجُلٌ فِي آخِرِ النَّاسِ : مَا تَقُولُ أَوْ مَا تُرِيدُ ؟ فَقَالَ : أَلا تَسْمَعُونَ " أَطِيعُوا رَبَّكُمْ ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ ، وَأَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ تَدْخُلُوا جُنَّةَ رَبِّكُمْ " . فَقُلْتُ لأَبِي أُمَامَةَ : ابْنَ كَمْ كُنْتَ يَوْمَئِذٍ حِينَ سَمِعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : سَمِعْتُ وَأَنَا ابْنُ ثَلاثِينَ سَنَةً .سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار ہو کر ہمیں خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! تو لوگوں کے پیچھے سے ایک صاحب نے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم لوگ سن نہیں رہے ہو تم اپنے پروردگار کی اطاعت کرو، پانچ نمازیں ادا کرو، اپنے اموال کی زکوۃ ادا کرو اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو اور اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: جب آپ نے یہ بات سنی تھی اس وقت آپ کی عمر کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: اس وقت میری عمر تیسں سال تھی۔