صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب طاعة الأئمة - ذكر التخصيص الثاني الذي يخص عموم الخطاب الذي ذكرناه قبل- باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - عام خطاب کی دوسری تخصیص کا بیان جو پہلے ذکر کی گئی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ أَنَّ سُهَيْلَ بْنَ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " آمُرُكُمْ بِثَلاثٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ ثَلاثٍ ، آمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ ، وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَتَفَرَّقُوا ، وَتُطِيعُوا لِمَنْ وَلاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ ، وَإِِضَاعَةِ الْمَالِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، أَمْرٌ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ ، وَقَوْلُهُ : وَتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا ، أَرَادَ بِهِ كِتَابَ اللَّهِ ، وَهُوَ فَرْضٌ عَلَى بَعْضِ الْمُخَاطَبِينَ الَّذِينَ تَقَعُ بِهِمُ الْحَاجَةُ إِِلَى اسْتِعْمَالِهِ فِي حَالٍ دُونَ حَالٍ ، وَتُطِيعُوا لِمَنْ وَلاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ ، لَفْظُهُ عَامٌ لَهُ تَخْصِيصَانِ أَحَدُهُمَا : أَنْ يُؤْمَرَ الْمَرْءُ بِمَا لَهُ فِيهِ رِضًى ، وَالثَّانِي : إِِذَا أُمِرَ مَا اسْتَطَاعَ دُونَ مَا لا يَسْتَطِيعُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں تین چیزوں سے منع کرتا ہوں میں تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ تم سب لوگ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقہ بندی کا شکار نہ ہو اور تم لوگ اس شخص کی اطاعت کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملے کا نگران (یعنی حاکم وقت) بنایا ہے اور میں تمہیں فضول بحث کرنے بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور مال کو ضائع کرنے سے منع کرتا ہوں۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ” تم اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ “ یہ ایک ایسا فرض حکم ہے جو تمام مخاطب لوگوں پر ہر حالت میں فرض ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ” تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ “ اللہ کی رسی سے مراد اللہ کی کتاب ہے اور یہ حکم بعض مخاطب افراد پر فرض ہے اس حکم پر عمل کرنے کی انہیں بعض صورتوں میں ضرورت پیش آتی ہے جو کسی حالت میں ہوتی ہے کسی حالت میں نہیں ہوتی اور ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملے کا نگران بنایا ہو اس کی تم اطاعت کرو۔ “ یہاں الفاظ عام ہیں، لیکن اس میں دو قسم کی تخصیص پائی جاتی ہے ایک یہ کہ آدمی کو اس بات کا حکم دیا جائے جس میں (اللہ تعالیٰ کی) رضا مندی پائی جاتی ہو اور دوسرا یہ کہ آدمی کو وہ حکم دیا جائے جس کو پورا کرنے کی اس میں استطاعت ہو وہ حکم نہ دیا جائے جو اس کی استطاعت سے باہر ہو۔