صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب طاعة الأئمة - ذكر التخصيص الثاني الذي يخص عموم الخطاب الذي ذكرناه قبل- باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - عام خطاب کی دوسری تخصیص کا بیان جو پہلے ذکر کی گئی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثَةٌ لا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ ، وَعَصَى إِِمَامَهُ ، وَمَاتَ عَاصِيًا ، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ مِنْ سَيِّدِهِ فَمَاتَ ، وَامْرَأَةٌ غَابَ زَوْجُهَا وَقَدْ كَفَاهَا مُؤْنَةَ الدُّنْيَا فَخَانَتْهُ بَعْدَهُ ، وَثَلاثَةٌ لا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ يُنَازِعُ اللَّهَ رِدَاءَهُ ، فَإِِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرُ وَإِِزَارَهُ الْعِزُّ ، وَرَجُلٌ فِي شَكٍّ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ، وَالْقَانِطُ مِنْ رَحمةِ اللَّهِ " .سیدنا فضالہ بن عبیدالله رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تین لوگ ایسے ہیں، جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا ایک وہ شخص (جو مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہو جائے اور اپنے حاکم کی نافرمانی کرے اور نافرمان ہونے کے عالم میں ہی فوت ہو جائے ایک وہ کنیز جو اپنے آقا کو چھوڑ کر بھاگ جائے اور اسی حالت میں فوت ہو جائے ایک وہ عورت جس کا شوہر موجود نہ ہو وہ شوہر اس عورت کی دنیاوی ضروریات کو پورا کرتا ہو اور وہ عورت اس کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت کرے۔ تین لوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی چادر کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کرتا ہے کیونکہ اس کی چادر کبریائی ہے اور اس کا ازار عزت ہے ایک وہ شخص جو اللہ کے حکم کے بارے میں شک کرتا ہے اور ایک وہ شخص جو اللہ کی رحمت سے مایوس ہو۔ “