صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب طاعة الأئمة - ذكر التخصيص الثاني الذي يخص عموم الخطاب الذي ذكرناه قبل- باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - عام خطاب کی دوسری تخصیص کا بیان جو پہلے ذکر کی گئی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلْقَمَةَ بْنَ مَجَزَرٍ الْمُدْلِجِيَّ عَلَى بَعْثٍ أَنَا فِيهِمْ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِِذَا كُنَّا عَلَى رَأْسِ غَزَاتِنَا أَوْ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ اسْتَأْذَنَتْهُ طَائِفَةٌ ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، وَأَمَرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ ، وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ ، فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَعَ مَعَهُ ، فَبَيْنَا نَحْنُ فِي الطَّرِيقِ نَزَلْنَا مَنْزِلا ، وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا يَصْطَلُونَ بِهَا أَوْ يَصْنَعُونَ عَلَيْهَا صَنِيعًا لَهُمْ ، إِِذْ قَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ : أَلَيْسَ لِي السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَأَنَا آمُرُكُمْ بِشَيْءٍ أَلا فَعَلْتُمُوهُ ؟ قَالُوا : بَلَى . قَالَ : فَإِِنِّي أَعَزِمُ عَلَيْكُمْ بِحَقِّي وَطَاعَتِي إِِلا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ . قَالَ : فَقَامَ نَاسٌ حَتَّى إِِذَا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ فِيهَا ، قَالَ : أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ ، إِِنَّمَا كُنْتُ أَضْحَكُ مَعَكُمْ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَمَرَكُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلا تُطِيعُوهُ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علقمہ بن مجزر مدلجی رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر روانہ کیا جس میں، میں بھی شامل تھا ہم لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم جنگ کے مقام پر یا شاید راستے میں کسی جگہ پر پہنچے تو ایک گروہ نے ان سے اجازت مانگی۔ انہوں نے ان لوگوں کو اجازت دے دی اور سیدنا عبداللہ بن حذافہ سمہی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کر دیا وہ غزوہ بدر میں شرکت کرنے کا شرف رکھتے تھے ان کے مزاج میں کچھ شوخی تھی میں ان لوگوں میں شامل تھا جو ان کے ساتھ واپس چلے گئے تھے راستے میں ایک جگہ ہم نے پڑاؤ کیا لوگوں نے آگ جلائی اور اس کے ذریعے اپنے کام کاج کیے اسی دوران سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم لوگوں پر میری فرمانبرداری لازم نہیں ہے ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو جس بات کا حکم دوں گا تم اس پر عمل کرو گے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اپنے حق اور اپنی فرمانبرداری کے حوالے سے تاکید کرتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ۔ راوی کہتے ہیں، تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ لگا کہ وہ اس میں کود جائیں گے تو انہوں نے کہا: تم لوگ رک جاؤ میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا پھر جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو (حکمران یا امیر) تمہیں معصیت کا حکم دے تم اس کی فرمانبرداری نہ کرو۔