صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب بيعة الأئمة وما يستحب لهم - ذكر البيان بأن البيعة إنما يجب أن تقع على الإمام من الناس من الأحرار منهم دون العبيد- باب: ائمہ کی بیعت کا بیان - وضاحت کہ بیعت صرف آزاد لوگوں پر واجب ہے، غلاموں پر نہیں
حدیث نمبر: 4550
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ " عَبْدًا بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَأَتَاهُ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ ، قَالَ : فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ، ثُمَّ لَمْ يُبَايعْ أَحَدًا عَلَى الْهِجْرَةِ حَتَّى يَسْأَلَهُ : " أَعْبُدٌ هُوَ ؟ " .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک غلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر ہجرت کی بیعت کی پھر اس کا مالک اسے تلاش کرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سیاہ فام غلاموں کے عوض میں اس غلام کو خرید لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی شخص کی بیعت اس وقت تک نہیں کی جب تک اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت نہیں کر لیتے تھے کہ کیا وہ غلام ہے۔