صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب صلة الرحم وقطعها - ذكر ما يتوقع من تعجيل العقوبة للقاطع رحمه في الدنيا باب: صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ صلہ رحمی کاٹنے والے کے لیے دنیا ہی میں سزا جلد آنے کا اندیشہ ہے۔
حدیث نمبر: 455
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا ، مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الآخِرَةِ ، مِنَ الْبَغِيِّ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ " .سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” زنا اور قطع رحمی سے زیادہ کوئی گناہ اس لائق نہیں ہے کہاللہ تعالیٰ اس کو کرنے والے کو دنیا میں بھی سزا دے اور اس کے ساتھ آخرت میں بھی سزا تیار رکھے ۔“