صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب بيعة الأئمة وما يستحب لهم - ذكر البيان بأن النصح لكل مسلم في البيعة التي وصفناها كان ذلك مع الإقرار بالسمع والطاعة- باب: ائمہ کی بیعت کا بیان - اس بات کی وضاحت کہ بیعت کے وقت ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی اور نصیحت کرنا سمع و طاعت کے اقرار کے ساتھ ہوتا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ ، وَالطَّاعَةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " . فَكَانَ إِِذَا اشْتَرَى شَيْئًا أَوْ بَاعَهُ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : اعْلَمْ أَنَّ مَا أَخَذْنَا مِنْكَ أَحَبُّ إِِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَهُ فَاخْتَرْ .سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اطاعت و فرمانبرداری کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی رکھنے کی بیعت کی تھی۔ (راوی کہتے ہیں) ان کا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یا شاید سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کا) یہ معمول تھا کہ جب وہ کوئی چیز خریدتے تھے یا کوئی چیز فروخت کرتے تھے تو دوسرے فریق یہ کہتے تھے: یہ بات جان لو کہ ہم نے جو چیز تم سے حاصل کی ہے وہ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے جو ہم نے تمہیں دی ہے تو اب تمہیں اختیار ہے (یعنی تم سودا مکمل کر لو)