صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام أن يشتغل بحوائج بعض رعيته وإن أداه ذلك إلى تأخير الصلاة عن أول وقتها- باب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی رعایا کی بعض ضروریات پوری کرنے میں مصروف ہو جائے اگرچہ اس کے باعث نماز کو اول وقت سے مؤخر کرنا پڑے
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتْ صَلاةُ الْعِشَاءِ ، فَقَامَ رَجُلٌ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنَّ لِي إِِلَيْكَ حَاجَةً ، فَقَامَ بِنَاحِيَةٍ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَصَلُّوا ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّئُوا " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) عشاء کی نماز قائم ہو گئی ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہوا اس نے عرض کی: مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کام ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد کے) ایک گوشے میں (اس شخص کے ہمراہ) کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ لوگ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کچھ لوگ اونگھنے لگے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی لوگوں نے بھی نماز ادا کی۔ راوی نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ ان لوگوں نے ازسر نو وضو کیا تھا (یا وضو نہیں کیا تھا)۔