صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام تعليم رعيته دينهم بالأفعال إذا جهلوا- باب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ جب رعایا دین کے احکام سے جاہل ہو تو انہیں عملی طور پر دین سکھائے
حدیث نمبر: 4542
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ " رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ قَوْلا شَدِيدًا ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِهِمْ فَجَزَّأَهُمْ ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً " .سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مرنے کے قریب چھ غلام آزاد کر دیئے اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا ان کے حصے کیے پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور دو کو آزاد قرار دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔