صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام استعمال الوعظ لرعيته في بعض الأيام ليتقوى به المنشمر في الحال ويبتدئ فيه المروي فيه- باب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ رعایا کو بعض اوقات وعظ و نصیحت کرے تاکہ اہلِ عمل کو قوت اور سستوں کو تحریک ملے
حدیث نمبر: 4524
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ مِمَّا يُذَكِّرُ النَّاسَ كُلَّ خَمِيسٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ . قَالَ : أَمَا إِِنَّهُ مَا يَمْنَعُنِي ذَلِكَ إِِلا مَخَافَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ بَيْنَ الأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " .سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ کیا کرتے تھے ایک صاحب نے عرض کی: میری یہ خواہش ہے آپ روزانہ ہمیں وعظ کیا کریں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں صرف اس اندیشے کے تحت یہ کام نہیں کرتا کہ کہیں میں تمہیں اکتاہٹ کا شکار نہ کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیں وقفے وقفے سے وعظ کیا کرتے تھے اس اندیشے کے تحت کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔