صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام تذكير نفسه الآخرة بزيارة القبور في بعض لياليه- باب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ بعض راتوں میں قبروں کی زیارت کے ذریعے آخرت کو یاد کرے
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ آخِرَ اللَّيْلِ إِِلَى الْبَقِيعِ ، فَيَقُولُ : " السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَأَتَانَا وَإِِيَّاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ ، وَإِِنَّا إِِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عَطَاءٌ هَذَا : هُوَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارً مَوْلَى مَيْمُونَةَ .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بھی رات میں ان کے ہاں قیام کرنا ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع کی طرف تشریف لے جاتے تھے اور یہ پڑھتے تھے۔ ” اے اہل ایمان کی بستی کے رہنے والو! تم پر سلام ہو ہمارے پاس اور تمہارے پاس کل وہ چیز آ جائے گی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی (جلد ہی) تم سے آ ملیں گے اے اللہ! تو تمام اہل بقیع غرقد کی مغفرت کر دے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عطاء نامی راوی عطاء بن یسار ہے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا غلام ہے۔