صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للأئمة استمالة قلوب رعيتهم بإقطاع الأرضين لهم- باب: خلافت و امارت کا بیان - اماموں کے لیے اپنی رعایا کے دل موہ لینے کی خاطر زمینیں عطا کرنے کا استحباب۔
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ شُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمَدَانِ ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّهُ وَفَدَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ فَأَقْطَعَهُ الْمِلْحَ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَدْرِي مَا أَقْطَعْتَهُ ؟ إِِنَّمَا أَقْطَعْتَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ . قَالَ : فَرَجَعَ فِيهِ ، وَقَالَ : " سَأَلْتُهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الأَرَاكِ ، فَقَالَ : مَا لَمْ تَبْلُغْهُ أَخْفَافُ الإِِبِلِ " .سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی زمین عطا کرنے کی درخواست کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ” ملح “ کے مقام والی زمین عطا کر دی جب وہ واپس چلے گئے تو ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کون سی زمین دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ایسی زمین دی ہے جہاں پانی وافر مقدار میں ہے۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمین واپس لے لی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ” اراک “ نامی جگہ میں زمین کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یہ اس وقت تک تمہیں دی جاتی ہے) جب تک اونٹوں کے پاؤں وہاں تک نہیں پہنچتے۔