صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب في الخلافة والإمارة - ذكر وصف الوالي الذي يريد الله به الخير أو الشر- باب: خلافت و امارت کا بیان - اس والی کی صفت کا بیان جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ خیر یا شر کا ارادہ فرماتا ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِالأَمِيرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ ، إِِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ ، وَإِِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ ، وَإِِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ ، جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ سُوءٍ ، إِِنْ نَسِيَ لَمْ يَذْكُرْهُ ، وَإِِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب اللہ تعالیٰ کسی حکمران کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے تو اسے سچا وزیر عطا کرتا ہے اگر وہ حکمران بھول جائے تو وہ وزیر اسے یاد کرواتا ہے اور اگر اس حکمران کو یاد ہو تو وہ وزیر اس کی مدد کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے بارے میں اس کے علاوہ کا ارادہ کر لے، تو اسے برا وزیر عطا کر دیتا ہے اگر وہ حکمران بھول جائے، تو وہ وزیر اسے یاد دہانی نہیں کرواتا اگر اس حکمران کو یاد ہو تو وہ وزیر اس کی معاونت نہیں کرتا۔