صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإخبار بسؤال الله جل وعلا كل من استرعى رعية عن رعيته- باب: خلافت و امارت کا بیان - اس بات کی خبر کہ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا جسے وہ کسی پر نگران بنائے۔
حدیث نمبر: 4493
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ ، فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِِنَّ اللَّهَ سَائِلٌ كُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاهُ : أَحَفَظَ أَمْ ضَيَّعَ ، حَتَّى يَسْأَلَ الرَّجُلَ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ " .سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بے شک اللہ تعالیٰ ہر نگران سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لے گا کہ اس نے اس کی حفاظت کی ہے یا اسے ضائع کر دیا ہے یہاں تک کہ وہ آدمی سے اس کے گھر والوں کے بارے میں بھی حساب لے گا۔ “