صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب في الخلافة والإمارة - ذكر البيان بأن الإمام مسئول عن رعيته التي هو عليهم راعي- باب: خلافت و امارت کا بیان - اس بات کا بیان کہ امام اپنی رعایا کا ذمہ دار اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ : فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ عَلَيْهِمْ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ ، وَالرَّجُلُ رَاعِي أَهْلَ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا لوگوں کا حکمران ان لوگوں کا نگران ہے اور اس سے ان لوگوں کے بارے میں حساب کیا جائے گا آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اس سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی اور اس کی اولاد کی نگران ہے اس سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا اور آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اس سے اس بارے میں حساب لیا جائے گا تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ “