صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب في الخلافة والإمارة - ذكر البيان بأن على كل راع حفظ رعيته صغر في نفسه أم كبر- باب: خلافت و امارت کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہر نگہبان پر لازم ہے کہ اپنی رعایا کی حفاظت کرے، چاہے اس کی ذمہ داری چھوٹی ہو یا بڑی۔
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ : فَالإِِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ أَهْلِهِ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعَيَّتِهَا ، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " .سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا حاکم نگران اس سے اس کی رعایا کے بارے میں حساب لیا جائے گا آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اس سے اس کے گھر والوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اس سے اس کے ماتحت چیزوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ “