صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب في الخلافة والإمارة - ذكر الزجر عن سؤال المرء الإمارة لئلا يوكل إليها إذا كان سائلا لها- باب: خلافت و امارت کا بیان - اس بات پر تنبیہ کہ امارت مانگنے والے کو اس کے سپرد کر دیا جاتا ہے، اس لیے اسے طلب نہ کیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلانِ مِنْ بَنِي عَمِّي ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا وَلاكَ اللَّهُ ، وَقَالَ الآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّا وَاللَّهِ لا نُوَلِّي عَلَى هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ ، وَلا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ " .سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور میرے دو چچازاد بھائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دو میں سے ایک نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حکومت عطا کی ہے اس میں سے کسی معاملے کا ہمیں بھی اہل کار مقرر کر دیں دوسرے شخص نے بھی اس کی مانند بات کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! ہم اس کام کا نگران کسی ایسے شخص کو مقرر نہیں کریں گے جو اسے مانگتا ہے اور نہ ہی کسی ایسے شخص کو مقرر کریں گے جو اس کا لالچ کرتا ہو۔