صحیح ابن حبان
كتاب الحدود— کتاب: حدود کے احکام و مسائل
باب قطع الطريق - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم بعث في طلب العرنيين قافة يقفو آثارهم- باب: چوری کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عُرَنیّین کے تعاقب میں قافہ (نشانوں کے ماہر) بھیجے تھے تاکہ ان کے نشاناتِ قدم کا پیچھا کریں۔
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِِبِلَ الصَّدَقَةِ ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَفَعَلُوا " فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ ، وَاسْتَاقُوا الإِِبِلَ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً ، فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ ، وَتَرَكَهُمْ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عکل قبیلے سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ صدقے کے اونٹوں کے پاس چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر انہوں نے (صدقے کے اونٹوں کے) چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں مہم روانہ کی ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیئے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں اسی حالت میں چھوڑ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ لگوا کر (ان کے خون کا بہاؤ روکنے کی کوشش نہیں کی)۔