صحیح ابن حبان
كتاب الحدود— کتاب: حدود کے احکام و مسائل
باب الزنى وحده - ذكر الخبر الدال على المقر بالزنى على نفسه إذا رجع بعد إقراره يجب أن يترك ولا يرجم- باب: زنا اور اس کی حد کا بیان - اس خبر کا بیان کہ جو شخص زنا کا اقرار کرے اور پھر رجوع کرلے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا اور رجم نہیں کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزٌ الأَسْلَمِيُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنِّي قَدْ زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ شِقِّهِ الآخَرِ ، فَقَالَ : إِِنِّي قَدْ زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَجَاءَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، " فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ ، فَذَكَرُوا فِرَارَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهَلا تَرَكْتُمُوهُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا۔ وہ چار مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں سنگسار کر دیا جائے۔ جب انہیں پتھر لگے تو وہ بھاگے۔ لوگوں نے ان کے بھاگنے کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کہ جب انہیں پتھر لگے تھے (تو وہ بھاگ پڑے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا۔