صحیح ابن حبان
كتاب الحدود— کتاب: حدود کے احکام و مسائل
باب الزنى وحده - ذكر وصف حكم الله تعالى على الحرة الزانية ثيبا كانت أم بكرا- باب: زنا اور اس کی حد کا بیان - آزاد عورت کے زنا پر اللہ تعالیٰ کا حکم بیان کرنا، چاہے وہ کنواری ہو یا شادی شدہ۔
حدیث نمبر: 4426
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا عَنِّي ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَيُنْفَيَانِ سَنَةً " .سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” مجھ سے حکم حاصل کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حکم بیان کر دیا ہے۔ شادی شدہ کے شادی شدہ کے ساتھ (زنا کرنے) پر ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور پھر سنگسار کر دیا جائے جب کہ کنوارے کے کنواری کے ساتھ (زنا کرنے کی صورت میں) ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور انہیں ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے گا۔ “