صحیح ابن حبان
كتاب الحدود— کتاب: حدود کے احکام و مسائل
باب الزنى وحده - ذكر إطلاق اسم الزنى على القلب إذا تمنى وقوع ما حرم عليه- باب: زنا اور اس کی حد کا بیان - ذکر اس بات کا کہ دل پر زنا کا نام رکھا جاتا ہے اگر وہ اس کی تمنا کرے جو اس پر حرام ہے
حدیث نمبر: 4421
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ بَنِي آدَمَ لَهُ نَصِيبٌ مِنَ الزِّنَى أَدْرَكَهُ ذَلِكَ لا مَحَالَةَ : فَالْعَيْنُ زِنَاهَا النَّظَرُ ، وَاللِّسَانُ زِنَاهُ النُّطْقُ ، وَالْقَلْبُ زِنَاهُ التَّمَنِّي ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ وَيُكَذِّبُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” ہر انسان کا زنا میں سے حصہ ہے، جس تک وہ ضرور پہنچے گا تو آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل کا زنا آرزو کرنا ہے اور شرم گاہ تصدیق یا تردید کرتی ہے۔ “