صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب صلة الرحم وقطعها - ذكر إيجاب دخول الجنة للواصل رحمه إذا قرنه بسائر العبادات باب: صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص صلہ رحمی کرے اور اسے دیگر عبادات کے ساتھ جوڑے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُنْجِينِي مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : فَنَظَرَ إِلَى وُجُوهِ أَصْحَابِهِ وَكَفَّ عَنْ نَاقَتِهِ وَقَالَ : " لَقَدْ وُفِّقَ ، أَوْ هُدِيَ ، لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ دَعِ النَّاقَةَ " .سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا۔ اس نے آپ کی اونٹنی کی لگام کو پکڑ لیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسے معاملے کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے نجات دیدے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے چہروں کی طرف دیکھا اور اپنی اونٹنی کو روک لیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کو توفیق دی گئی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ہدایت دی گئی، تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ، تم نماز ادا کرو، زکوۃ ادا کرو۔ صلہ رحمی کرو اور (اب) اونٹنی کو چھوڑ دو۔