صحیح ابن حبان
كتاب الأيمان— کتاب: قسموں کے احکام و مسائل
ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه باب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَهُ فَسَأَلَهُ نَفَقَةً ، فَقَالَ : مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ إِِلا دِرْعِي وَمِغْفَرِي ، فَأَكْتُبُ إِِلَى أَهْلِي أَنْ تَعْطِيكَهَا . فَلَمْ يَرْضَ ، فَحَلَفَ أَنْ لا يُعْطِيَهُ شَيْئًا ، ثُمَّ رَضِيَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ عَدِيٌّ : لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ثُمَّ رَأَى مَا هُوَ أَتْقَى لِلَّهِ مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ التَّقْوَى " . مَا حَنَثْتُ .سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے خرچ کا مطالبہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے صرف یہ زرہ ہے اور یہ خود ہے میں اپنے گھر والوں کی طرف کاغذ لکھ دیتا ہوں کہ وہ تمہیں کچھ دے دیں وہ شخص اس بات پر راضی نہیں ہوا تو سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ اسے کچھ نہیں دیں گے پھر وہ شخص اس بات پر راضی ہو گیا تو سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا۔ ” جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر وہ (اس کے برخلاف صورت حال کو) دیکھے کہ وہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے تو اسے وہ کام کرنا چاہئے جو پرہیزگاری والا ہو۔ “ (سیدنا عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر یہ حدیث نہ ہوتی) تو میں اپنی قسم نہ توڑتا۔