صحیح ابن حبان
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
باب اللعان - ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله آية اللعان- باب: لعان کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اللہ نے لعان کی آیت نازل کی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا يَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا مَا ذِكْرُ فِي الْقُرْآنِ مِنَ الْمُتَلاعِنِينَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ قُضِيَ فِيكَ ، وَفِي امْرَأَتِكَ " . قَالَ : فَتَلاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنْ أَمْسِكُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا ، فَكَانَتْ سُنَّةٌ بَعْدُ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنِينَ ، فَكَانَتْ حَامِلا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا ، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِِلَيْهَا ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا .سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے تو آپ لوگ (بدلے میں) اسے قتل کر دیں گے ایسے شخص کو کیا کرنا چاہئے (راوی کہتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وہ چیز ذکر کی جو لعان کرنے والوں کے حوالے سے ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں تو ان دونوں نے لعان کیا میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر اب بھی میں اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو اس شخص نے اس عورت سے علیحدگی اختیار کی۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد یہ طریقہ روایت پا گیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جاتی ہے وہ خاتون حاملہ تھیں اس شخص نے اس عورت کے حمل کا انکار کیا تھا تو اس خاتون کے بچے کو اس کی ماں کے حوالے سے بلایا جاتا تھا اس کے بعد میراث میں بھی یہ طریقہ جاری ہوا کہ وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا اور وہ عورت اس بچے کی وارث بنتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کا حصہ مقرر کیا تھا۔