صحیح ابن حبان
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
باب اللعان - ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله آية اللعان- باب: لعان کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اللہ نے لعان کی آیت نازل کی
حدیث نمبر: 4282
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ " إِِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلا ، أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی کیا رائے ہے، اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہوں تو کیا میں اس شخص کو مہلت دوں گا تاکہ پہلے چار گواہ لے آؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔