حدیث نمبر: 4281
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ بن عبد الحميد ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا ، فَإِِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ ، وَإِِنْ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ، فَوَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَيْهِ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا ، فَإِِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ ، وَإِِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ ، وَإِِنْ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ افْتَحْ " ، فَنَزَلَتْ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ ، سورة النور آية 6 هَؤُلاءِ الآيَاتُ فِي اللِّعَانِ ، فَجَاءَ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْرَأَتُهُ فَتَلاعَنَا ، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ . فَلَمَّا أَخَذَتِ امْرَأَتُهُ لِتَلْتَعِنَ ، قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْ " . فَالْتَعَنَتْ ، فَلَمَّا أَدْبَرَتْ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا " ، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا . قَالَ إِِسْحَاقُ : قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ : قُلْتُ لِجَرِيرٍ : لَمْ يَرْوِ هَذَا عَنِ الأَعْمَشِ أَحَدٌ غَيْرُكَ . قَالَ : لَكِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ .

سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کی مسجد میں موجود تھے ایک صاحب نے عرض کی: آپ لوگوں کی کیا رائے ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے تو اگر وہ اس دوسرے شخص کو قتل کر دیتا ہے تو آپ لوگ اسے قتل کر دیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو وہ ناراضگی کے عالم میں خاموش رہے گا (یا ایسی بات پر خاموش رہے گا جس پر غصہ کیا جانا چاہئے) اللہ کی قسم! میں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا: انہوں نے کہا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے تو آپ لوگ قتل کر دیں گے اگر وہ یہ الزام عائد کرتا ہے تو آپ لوگ اسے کوڑے لگائیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو ایسی بات پر خاموش رہتا ہے جس پر غصہ کرنا چاہئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یا اس شخص نے) دعا کی اے اللہ! تو کشادگی عطا کر تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ” اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں۔ “ یہ آیات لعان کے بارے میں ہیں پھر وہ شخص اور اس کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے لعان کیا اس مرد نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو پھر اس عورت نے لعان کرنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ٹھہر جاؤ لیکن اس عورت نے لعان کیا جب وہ چلی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو سکتا ہے یہ عورت سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کو جنم دے (راوی کہتے ہیں) تو اس عورت کے ہاں سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اسحاق نامی راوی کہتے ہیں: یحیی بن معین نے یہ بات بیان کی ہے میں نے جریر سے کہا: آپ کے علاوہ اور کسی نے یہ روایت اعمش کے حوالے سے نقل نہیں کی ہے تو جریر نے کہا: میں نے تو ان سے یہ روایت سنی ہوئی ہے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطلاق / حدیث: 4281
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1950): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4267»