صحیح ابن حبان
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
ذكر البيان بأن تخيير المرء امرأته بين فراقه أو الكون معه إذا اختارت نفسه لم يكن ذلك طلاقا- باب: - اس بات کا بیان کہ آدمی کا اپنی بیوی کو جدائی یا ساتھ رہنے کا اختیار دینا، اگر وہ خود کو چن لے تو یہ طلاق نہیں
حدیث نمبر: 4267
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَعَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَرْنَاهُ ، فَهَلْ كَانَ ذَلِكَ طَلاقًا ؟ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا، تو ہم نے آپ کو اختیار کر لیا تو کیا یہ چیز طلاق شمار ہوئی تھی؟