صحیح ابن حبان
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
- باب العزل - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم إنما هو القدر أراد به أن الله جل وعلا قد قدر ما هو كائن إلى يوم القيامة باب: عزل کے بیان کا باب - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "إنما هو القدر" سے مراد یہ ہے کہ اللہ جل وعلا نے قیامت تک جو کچھ ہونا ہے اسے مقدر کر دیا
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " ، ثُمَّ أَتَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ حَمَلَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قَدَّرَ اللَّهُ نَسَمَةً تَخْرُجُ إِلا هِيَ كَائِنَةٌ " ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : كَانَ يُقَالُ : لَوْ أَنَّ النُّطْفَةَ الَّتِي قُدِّرَ مِنْهَا الْوَلَدُ وُضِعَتْ عَلَى صَخْرَةٍ لأَخْرَجَتْ .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میری ایک کنیز ہے جس کے ساتھ میں عزل کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب اس کے پاس وہ چیز آ جائے گی جو اس کے نصیب میں لکھی ہوئی ہے اس کے بعد وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے بتایا: وہ کنیز حاملہ ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس بھی جان کے پیدا ہونے کے بارے میں طے کر دیا وہ پیدا ہو کے رہے گی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ ابراہیم سے کیا تو وہ بولے: یہ بات کہی جاتی ہے جس نطفے کے مقدر میں یہ بات لکھ دی گئی ہو کہ اس کے ذریعے بچے نے پیدا ہونا ہے اگر اسے پتھر پر بھی ڈال دیا جائے تو اس میں بھی وہ پیدا ہو جائے گا۔