صحیح ابن حبان
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
- باب معاشرة الزوجين - ذكر الزجر عن ضرب النساء إذ خير الناس خيرهم لأهله باب: میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ عورتوں کو مارا جائے کیونکہ بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے اہل کے لیے بہترین ہوں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الرِّجَالَ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَضَرَبُوهُنَّ ، فَبَاتَ فَسَمِعَ صَوْتًا عَالِيًا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، قَالُوا : أَذِنْتَ لِلرِّجَالِ فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ ، فَضَرَبُوهُنَّ ، فَنَهَاهُمْ ، وَقَالَ : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ ، وَأَنَا مِنْ خَيْرِكُمْ لأَهْلِي " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: کچھ مردوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خواتین (یعنی اپنی بیویوں) کو مارنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ان لوگوں نے اپنی بیویوں کی پٹائی کی۔ رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سنائی دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس کی وجہ کیا ہے لوگوں نے بتایا: آپ نے مردوں کو خواتین کی پٹائی کرنے کی اجازت دی ہے تو ان مردوں نے خواتین کی پٹائی کی (جس کی وجہ سے وہ خواتین رونے لگیں اور اس کی یہ آواز ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو اس سے منع کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور میں اپنی بیوی کے حق میں تم سب سے زیادہ بہتر ہوں۔ “