صحیح ابن حبان
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
- باب معاشرة الزوجين - ذكر البيان بأن الزجر عن الشيئين اللذين ذكرناهما قبل إنما هو زجر تحريم لا زجر تأديب باب: میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ پچھلے دو امور (یعنی منع و زجر) حرمت کے طور پر ہیں نہ کہ محض تنبیہ یا تربیت کے طور پر۔
حدیث نمبر: 4170
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ أَنْ تَصُومَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ ، وَلا تَأْذَنُ لِرَجُلٍ فِي بَيْتِهَا وَهُوَ لَهُ كَارِهٌ ، وَمَا تَصَدَّقَتْ مِنْ صَدَقَةٍ فَلَهُ نِصْفُ صَدَقَتِهَا ، وَإِنَّمَا خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” کسی بھی عورت کیلئے اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی وہ عورت اپنے گھر میں کسی ایسے مرد کو آنے کی اجازت دے سکتی ہے جسے اس کا شوہر ناپسند کرتا ہو اور عورت جو بھی صدقہ کرتی ہے تو اس صدقے کا نصف ثواب مرد کو ملے گا، عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔ “