صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب حق الوالدين - ذكر الإخبار عن نفي دخول الجنة عمن ادعى أبا غير أبيه باب: والدین کے حقوق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کو باپ ہونے کا دعویٰ کرے، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ ، لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ ؟ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : سَمِعَ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الإِسْلامِ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " فقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .ابوعثمان بیان کرتے ہیں: جب زیاد کے بارے میں دعوی کیا گیا، تو میری ملاقات سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے کہا: یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ بات کہتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میرے دونوں کانوں نے اس بات کو سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص اسلام میں کسی باپ کی طرف خود کو منسوب کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ یہ اس کا باپ نہیں ہے، تو ایسے شخص پر جنت حرام ہو گئی ۔“ تو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے۔