حدیث نمبر: 4120
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا ، ثُمَّ تَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ، ثُمَّ أَرَادَ الأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا ؟ ، قَالَ : " لا حَتَّى يَذُوقَ الآخَرُ عُسَيْلَتَهَا ، وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230 فَأَبَاحَ اللَّهُ لَهَا أَنْ تَنْكِحَ الزَّوْجَ الأَوَّلَ بَعْدَ أَنْ نَكَحَهَا الزَّوْجُ الثَّانِي ، وَأَبَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَادَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا مِنْ قَوْلِهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230 إِذْ هُوَ الْمُبَيُّنُ لِمَجْمَلِ الْخَطَّابِ فِي الْكِتَابِ ، إِذِ الْمُرَادُ مِنْ قَوْلِهِ : حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230 الْوَطْءُ دُونَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ .

سیدہ عائشہ صدیقه رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں، جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے پھر وہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لیتی ہے اور وہ دوسرا شخص صحبت کرنے سے پہلے اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور پہلا شوہر اس عورت کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: نہیں جب تک دوسرا شوہر اس عورت کے شہد کو چکھ نہیں لیتا اور وہ عورت اس دوسرے شخص کے شہد کو چکھ نہیں لیتی (اس وقت تک یہ جائز نہیں ہے) (امام ابن حبان رحمہ اللہ و فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ” اگر وہ مرد اس عورت کو طلاق دیدے تو وہ عورت اس مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ اس مرد کے علاوہ کسی اور مرد کے ساتھ شادی نہ کر لے۔ “ تو یہاں اللہ تعالیٰ نے عورت کیلئے یہ بات مباح قرار دی ہے وہ پہلے شوہر کے ساتھ اس وقت نکاح کر سکتی ہے جب وہ دوسرے شوہر کے ساتھ بھی نکاح کر چکی ہو لیکن مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی مراد کو بیان کیا ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” یہاں تک کہ وہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لے جو پہلے کے علاوہ ہو۔ “ تو کتاب میں مجمل کا بیان یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ” یہاں تک کہ وہ اس پہلے شوہر کے علاوہ کسی کے ساتھ نکاح نہیں کر لیتی “ اس سے مراد نکاح کا عقد کرنا نہیں، بلکہ صحبت کرنا ہے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4120
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4108»