صحیح ابن حبان
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
- باب حرمة المناكحة - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل باب: نکاح کی حرمت کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اس فعل سے منع کیا گیا
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيًّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى الْعَمَّةِ ، وَالْخَالَةِ ، قَالَ : إِنَّكُنَّ إِذَا فَعَلْتُنَّ ذَلِكَ قَطَعْتُنَّ أَرْحَامَكُنَّ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " أَبُو حَرِيزٍ : اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ قَاضِي سِجِسْتَانَ ، وَأَبُو حَرِيزٍ مَوْلَى الزُّهْرِيِّ ضَعِيفٌ وَاهِيٌ ، اسْمُهُ سُلَيْمُ وَجَمِيعًا يَرْوِيَانِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح کیا جائے (یعنی اپنی بیوی کی بھانجی یا بھتیجی کے ساتھ شادی کی جائے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے: تم خواتین جب ایسا کرو گی، تو تم رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے کی مرتکب ہو گی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوحریز نامی راوی کا نام عبداللہ بن حسین ہے یہ سجستان کا قاضی تھا جب کہ جو ابوحریز زہری کا آزاد کردہ غلام ہے یہ ضعیف اور واہی ہے اس کا نام سلیم ہے ان دونوں نے زہری کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔