صحیح ابن حبان
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
- باب ثبوت النسب وما جاء في القائف - ذكر الخبر الدال على أن الحكم بالتشبيه مما وصفنا غير جائز إذا كان الفراش معدوما باب: نسب کے ثبوت اور قائف کے بارے میں بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اگر فراش موجود نہ ہو تو تشبیہ کے ساتھ حکم دینا جائز نہیں، جیسا کہ ہم نے بیان کیا
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَضَعَتْ غُلامًا أَسْوَدَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ " ، قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ " ، قَالَ : إِنَّ فِيهَا وُرْقًا ، قَالَ : " فَأَنَّى أَتَاهُ ذَلِكَ ؟ " ، قَالَ : عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، قَالَ : " وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میری بیوی نے سیاہ رنگ کے لڑکے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ان کا رنگ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: سرخ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟ اس نے جواب دیا: ان میں ایک خاکستری بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کہاں سے آ گیا؟ اس نے جواب دیا: کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ہو سکتا ہے اسے بھی کسی رگ نے کھینچ لیا۔