صحیح ابن حبان
كتاب الوحي— کتاب: وحی کے احکام و مسائل
- ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الله جل وعلا لم ينزل آية واحدة إلا بكمالها- باب: - ذکر اس خبر کا جو اس قول کو باطل قرار دیتی ہے جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ جل وعلا نے کوئی آیت نازل نہیں فرمائی مگر مکمل صورت میں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بْنِسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيتُونِي بِالْكَتِفِ أَوِ اللَّوْحِ " ، فَكَتَبَ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 ، وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ خَلْفَ ظَهْرِهِ ، فَقَالَ : هَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ ؟ فَنَزَلَتْ ، غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 .سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس کندھے کی ہڈی یا لوح لے کر آؤ، پھر آپ نے یہ آیت املاء کروائی۔
” اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے لوگ برابر نہیں ہیں۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلایا، وہ شانے کی ہڈی لے کر آئے، انہوں نے اس پر یہ آیت تحریر کی، جب سیدنا ابن مکتوم نے اپنی معذوری کی شکایت کی تو یہ الفاظ نازل ہوئے: ” جنہیں کوئی ضرر نہ ہو ۔“
«ذِكْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَبا إسحق السَّبِيعِيُّ لَمْ يَسْمَعُ هَذَا الْخَبَرَ مِنَ الْبَرَاءِ» اس روایت کا تذکرہ جو اس شخص کے موقف کو غلط ثابت کرتی ہے، جو اس بات کا قائل ہے، ابواسحاق سبیعی نامی راوی نے یہ روایت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی ہے۔