حدیث نمبر: 41
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بْنِسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيتُونِي بِالْكَتِفِ أَوِ اللَّوْحِ " ، فَكَتَبَ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 ، وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ خَلْفَ ظَهْرِهِ ، فَقَالَ : هَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ ؟ فَنَزَلَتْ ، غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 .

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس کندھے کی ہڈی یا لوح لے کر آؤ، پھر آپ نے یہ آیت املاء کروائی۔
” اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے لوگ برابر نہیں ہیں۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلایا، وہ شانے کی ہڈی لے کر آئے، انہوں نے اس پر یہ آیت تحریر کی، جب سیدنا ابن مکتوم نے اپنی معذوری کی شکایت کی تو یہ الفاظ نازل ہوئے: ” جنہیں کوئی ضرر نہ ہو ۔“
«ذِكْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَبا إسحق السَّبِيعِيُّ لَمْ يَسْمَعُ هَذَا الْخَبَرَ مِنَ الْبَرَاءِ» اس روایت کا تذکرہ جو اس شخص کے موقف کو غلط ثابت کرتی ہے، جو اس بات کا قائل ہے، ابواسحاق سبیعی نامی راوی نے یہ روایت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی ہے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الوحي / حدیث: 41
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مختصر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.